مَحَبَّۃً وَعَزْماً ۔ إلھِی کَیْفَ ٲَعْزِمُ وَٲَ نْتَ الْقاھِرُ وَکَیْفَ لاَ ٲَعْزِمُ وَٲَ نْتَ الْاَمِرُ إلھِی
ہمیشہ راسخ ہے میرے اللہ کس قدر بندگی کا ارادہ کروں جب کہ تو غالب ہے اور کیونکر ارادہ نہ کروں جب کہ تو حکم دیتا ہے میرے اللہ
تَرَدُّدِی فِی الْاَثارِ یُوجِبُ بُعْدَ الْمَزارِ فَاجْمَعْنِی عَلَیْکَ بِخِدْمَۃٍ تُوصِلُنِی إلَیْکَ کَیْفَ
تیری قدرت کے آثار میں غور کرنا تیرے دیدار سے دوری کا سبب ہے پس مجھے اپنے حضور حاضر رکھ تیری سرکار میں پہنچ پاؤں کیونکر
یُسْتَدَلُّ عَلَیْکَ بِما ھُوَ فِی وُجُودِہِ مُفْتَقِرٌ إلَیْکَ ٲَیَکُونُ لِغَیْرِکَ مِنَ الظُّھُورِ مَا لَیْسَ
وہ چیز تیری طرف رہنمائی کر سکتی ہے جو اپنے وجود ہی میں تیری محتاج ہے آیا تیرے غیر کیلئے ایسا ظہور ہے جو تیرے لئے نہیں ہے
لَکَ حَتَّی یَکُونَ ھُوَ الْمُظْھِرَ لَکَ مَتی غِبْتَ حَتَّی تَحْتاجَ إلی دَلِیلٍ یَدُلُّ عَلَیْکَ وَمَتی
یہاں تک کہ وہ تجھے ظاہر کرنے والا بن جائے تو کب غائب تھا کہ کسی ایسے نشان کی حاجت ہو جو تیری دلیل ٹھہرے اور تو کب دور
بَعُدْتَ حَتَّی تَکُونَ الْاَثارُ ھِیَ الَّتِی تُوصِلُ إلَیْکَ عَمِیَتْ عَیْنٌ لاَ تَراکَ عَلَیْہا رَقِیباً
تھا کہ آثار اور نشان تجھ تک پہنچانے کا ذریعہ و وسیلہ بنیں اندھی ہے وہ آنکھ جو تجھ کو اپنا نگہبان نہیں پاتی اس
وَخَسِرَتْ صَفْقَۃُ عَبْدٍ لَمْ تَجْعَلْ لَہُ مِنْ حُبِّکَ نَصِیباً ۔ إلھِی ٲَمَرْتَ بِالرُّجُوعِ إلَی
بندے کا سودہ خسارے والا ہے جس کو تو نے اپنی محبت کا حصہ نہیں دیا میرے اللہ تو نے اپنی قدرت کے آثار پر توجہ کا
الْاَثارِ فَٲَرْجِعْنِی إلَیْکَ بِکِسْوَۃِ الْاَ نْوارِ وَھِدایَۃِ الاسْتِبْصارِ حَتَّی ٲَرْجِعَ إلَیْکَ
حکم کیا پس مجھ کو اپنے نور کے پردوں اور بصیرت کے راستوں کی طرف لے چل تاکہ اس کے ذریعے تیری
مِنْھا کَما دَخَلْتُ إلَیْکَ مِنْھا مَصُونَ السِّرِّ عَنِ النَّظَرِ إلَیْھا، وَمَرْفُوعَ الْھِمَّۃِ عَنِ
درگاہ میں آؤں جس طرح انہی کے ذریعے تیری طرف راہ پائی انہیں دیکھ کر راز حقیقت کی خبر پاؤں اور ان کے سہارے اپنی ہمت کو
الاعْتِمادِ عَلَیْھا، إنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ۔ إلھِی ھذَا ذُ لِّی ظاھِرٌ بَیْنَ یَدَیْکَ، وَھذَا
بلند کروں بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے میرے اللہ یہ ہے میری پستی جو تیرے آگے عیاں ہے اور یہ ہے
حالِی لاَ یَخْفیٰ عَلَیْکَ مِنْکَ ٲَطْلُبُ الْوُصُولَ إلَیْکَ، وَبِکَ ٲَسْتَدِلُّ عَلَیْکَ فَاھْدِنِی
میری بری حالت جو تجھ سے پوشیدہ نہیں میں تیری بارگاہ میں پہنچنا چاہتا ہوں اور تجھ پر تجھی کو دلیل ٹھہراتا ہوں پس اپنے نور سے میری
بِنُورِکَ إلَیْکَ وَٲَقِمْنِی بِصِدْقِ الْعُبُودِیَّۃِ بَیْنَ یَدَیْکَ إلھِی عَلِّمْنِی مِنْ عِلْمِکَ الْمَخْزُونِ
اپنی طرف سے رہنمائی کر اور اپنے حضور مجھے سچی بندگی پر قائم رکھ میرے اللہ مجھے اپنے پوشیدہ علوم میں سے تعلیم دے
وَصُنِّی بِسِتْرِکَ الْمَصُونِ ۔ إلھِی حَقِّقْنِی بِحَقایِقِ ٲَھْلِ الْقُرْبِ، وَاسْلُکْ بِی مَسْلَکَ
اور اپنے محکم پردے کے ساتھ میری حفاظت کر میرے اللہ مجھے اپنے اہل قرب کے حقائق سے بہرہ ور فرما اور ان کی راہ پر ڈال جو
ٲَھْلِ الْجَذْبِ ۔ إلھِی ٲَغْنِنِی بِتَدْبِیرِکَ لِی عَنْ تَدْبِیرِی، وَبِاخْتِیارِکَ عَن إخْتِیارِی،
تیری طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں میرے اللہ اپنے تدبراور پسند کے ذریعے مجھے میرے تدبر اور پسند سے بے نیاز کردے اور
وَٲَوْقِفْنِی عَلَی مَراکِزِ اضْطِرارِی ۔ إلھِی ٲَخْرِجْنِی مِنْ ذُلِّ نَفْسِی، وَطَہِّرْنِی مِنْ
پریشانی کے عالم میں مجھے ثابت قدم رکھ میرے معبود مجھے میرے نفس کی پستی سے نکال لے مجھے شک اور
شَکِّی وَشِرْکِی قَبْلَ حُلُولِ رَمْسِی بِکَ ٲَنْتَصِرُ فَانْصُرْنِی وَعَلَیْکَ ٲَتَوَکَّلُ فَلاتَکِلْنِی
شرک سے پاک کردے قبل اسکے کہ میں قبر میں جاؤں، تجھ سے مدد چاہتا ہوں میری مدد فرما تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں پس مجھے چھوڑ نہ
وَ إیَّاکَ ٲَسْئَلُ فَلا تُخَیِّبْنِی، وَفِی فَضْلِکَ ٲَرْغَبُ فَلا تَحْرِمْنِی، وَبِجَنابِکَ ٲَ نْتَسِبُ
دے تجھ سے مانگتا ہوں پس ناامید نہ کر تیرے فضل کی آس لگائی ہے پس مجھے محروم نہ کر تیری بارگاہ سے تعلق جوڑا ہے پس مجھے دور نہ
فَلا تُبْعِدْنِی، وَبِبابِکَ ٲَقِفُ فَلا تَطْرُدْنِی ۔ إلھِی تَقَدَّسَ رِضاکَ ٲَنْ یَکُونَ لَہُ عِلَّۃٌ
فرما تیرا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں پس مجھے بھگا نہ دے میرے اللہ تیری رضا پاک ہے ممکن نہیں اس میں تیری طرف سے
مِنْکَ فَکَیْفَ یَکُونُ لَہُ عِلَّۃٌ مِنِّی إلھِی ٲَ نْتَ الْغَنِیُّ بِذاتِکَ ٲَنْ یَصِلَ إلَیْکَ النَّفْعُ مِنْکَ
نقص آئے پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نقص دار کہوں میرے اللہ تو اپنی ذات میں بے نیاز ہے اس سے کہ تجھے اپنی ذات سے نفع
فَکَیْفَ لاَ تَکُونُ غَنِیّاً عَنِّی إلھِی إنَّ الْقَضائَ وَالْقَدَرَ یُمَنِّینِی، وَ إنَّ الْھَویٰ بِوَثائِقِ
پہنچے کیوں کر تو مجھ سے بے نیاز نہ ہوگا میرے اللہ قضا وقدر مجھ کو آرزومند بناتی ہے اور خواہش نفس مجھے آرزوؤں کا قیدی
الشَّھْوَۃِ ٲَسَرَنِی فَکُنْ ٲَنْتَ النَّصِیرَ لِی حَتَّی تَنْصُرَنِی وَتُبَصِّرَنِی وَٲَغْنِنِی بِفَضْلِکَ
بنا لیتی ہے پس تو میرا مددگار بن جا تاکہ کامیاب ہو جاؤں بینا ہو جاؤں اور اپنے فضل سے مجھ کو بے نیاز کردے
حَتَّی ٲَسْتَغْنِیَ بِکَ عَنْ طَلَبِی ٲَنْتَ الَّذِی ٲَشْرَقْتَ الْاََ نْوارَ فِی قُلُوبِ ٲَوْلِیائِکَ حَتَّی
تاکہ تیرے ذریعے حاجت سے بے نیاز ہو جاؤں تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں کو نور کی شعاؤں سے روشن کردیا تو
عَرَفُوکَ وَوَحَّدُوکَ ، وَٲَ نْتَ الَّذِی ٲَزَلْتَ الْاََغْیارَ عَنْ قُلُوبِ ٲَحِبَّائِکَ حَتَّی لَمْ یُحِبُّوا
انہوں نے تجھے پہچانا اور تجھے ایک مانا اور تو وہ ہے جس نے اپنے دوستوں کے دلوں سے غیروں کو دور کردیا تو وہ
سِواکَ وَلَمْ یَلْجَٲُوا إلی غَیْرِکَ، ٲَ نْتَ الْمُؤْ نِسُ لَھُمْ حَیْثُ ٲَوْحَشَتْھُمُ الْعَوالِمُ
سوائے تیرے کسی سے محبت نہیں رکھتے اور تیرے غیر کی پناہ نہیں لیتے جب زمانہ ان کو ہراساں کرے اس وقت تو ہی انکا ہمدم ہے
وَٲَنْتَ الَّذِی ھَدَیْتَھُمْ حَیْثُ اسْتَبانَتْ لَھُمُ الْمَعالِمُ، مَاذا وَجَدَ مَنْ فَقَدَکَ وَمَا الَّذِی
اور تو وہ ہے جس نے ان کی رہنمائی کی جب وہ تیرے نشان و برھان سے دور ہوئے اس نے کیا پایاجس نے تجھے کھویا اور اس نے
فَقَدَ مَنْ وَجَدَکَ لَقَدْ خابَ مَنْ رَضِیَ دُونَکَ بَدَلاً وَلَقَدْ خَسِرَ مَنْ بَغیٰ عَنْکَ مُتَحَوِّلاً
کچھ نہ کھویا جس نے تجھ کو پایا اور یقینا ناکام ہوا جو تیری بجائے کسی اور کو پسند کرنے لگا اور وہ گھاٹے میں پڑا جو سرکشی کیساتھ تجھ سے پھر گیا
کَیْفَ یُرْجیٰ سِواکَ وَٲَنْتَ مَا قَطَعْتَ الْاِحْسانَ وَکَیْفَ یُطْلَبُ مِنْ غَیْرِکَ وَٲَنْتَ مَا
کس طرح تیرے غیر سے امید رکھی جا سکتی ہے جبکہ تیرا احسان و کرم رکتا ہی نہیں اور کیونکر تیرے غیر سے سو،ال کیا جاسکتا ہے جبکہ
بَدَّلْتَ عادَۃَ الامْتِنانِ یَا مَنْ ٲَذاقَ ٲَحِبَّائَہُ حَلاوَۃَ الْمُؤانَسَۃِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْہِ
تیرے فضل و احسان کرنے کی عادت میں تبدیلی نہیں آتی اور وہ جو اپنے دوستوںکو الفت کی مٹھاس چکھاتا ہے پس وہ اس کے حضور
مُتَمَلِّقِینَ وَیَا مَنْ ٲَلْبَسَ ٲَوْلِیائَہُ مَلابِسَ ھَیْبَتِہِ فَقامُوا بَیْنَ یَدَیْہِ
تعریفیں کرتے کھڑے ہو جاتے ہیں اے وہ جو اپنے دوستوں کو اپنی ہیبت کا لباس پہناتا ہے تو وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
مُسْتَغْفِرِینَ، ٲَ نْتَ الذَّاکِرُ قَبْلَ الذَّاکِرِینَ، وَٲَ نْتَ الْبادِیَُ بِالاحْسانِ قَبْلَ تَوَجُّہِ
بخشش مانگتے ہوئے تو یاد کرنے والوں سے پہلے انکو یاد رکھنے والا ہے تو احسان میں ابتدا کرنے والا ہیعبادت گزاروں کے توجہ کرنے
الْعابِدِینَ، وَٲَنْتَ الْجَوادُ بِالْعَطائِ قَبْلَ طَلَبِ الطَّالِبِینَ، وَٲَ نْتَ الْوَھَّابُ ثُمَّ لِما
سے پہلے تو عطا میں اضافہ کرنے والا ہے مانگنے والوں کے مانگنے سے پہلے تو بہت دینے والا ہے پھر اس میں سے بطور قرض مانگتا
وَھَبْتَ لَنا مِنَ الْمُسْتَقْرِضِینَ ۔ إلھِی اطْلُبْنِی بِرَحْمَتِکَ حَتَّی ٲَصِلَ إلَیْکَ وَاجْذِبْنِی
ہے جو کچھ تو نے ہمیں دیا ہے میرے اللہ اپنی رحمت سے مجھ کو بلا لے تاکہ میں تیرے حضور پہنچ سکوں مجھے اپنی طرف کھینچ لے
بِمَنِّکَ حَتَّی ٲُقْبِلَ عَلَیْکَ ۔ إلھِی إنَّ رَجائِی لاَ یَنْقَطِعُ عَنْکَ وَ إنْ عَصَیْتُکَ، کَما ٲَنَّ
تاکہ تیری بارگاہ میں آسکوں میرے اللہ بے شک میری آس تجھ سے نہیں ٹوٹے گی اگرچہ میں تیری نافرمانی کروں جیسا کہ میرا
خَوفِی لاَ یُزایِلُنِی وَ إنْ ٲَطَعْتُکَ، فَقَدْ دَفَعَتْنِی الْعَوالِمُ إلَیْکَ، وَقَدْ ٲَوْقَعَنِی عِلْمِی
خوف دور نہ ہوگا اگرچہ میں تیری اطاعت بھی کروں پس زمانے کی سختیوں نے مجھ کو تیری طرف دھکیل دیا اور تیری نوازش کے علم نے
بِکَرَمِکَ عَلَیْکَ ۔ إلھِی کَیْفَ ٲَخِیبُ وَٲَ نْتَ ٲَمَلِی ٲَمْ کَیْفَ ٲُھانُ وَعَلَیْکَ مُتَّکَلِی
تیری بارگاہ میں پہنچا دیا میرے اللہ کیونکر ناامید ہو جاؤں جب کہ تو میری آرزو ہے یا کیسے پست ہوں گا جب کہ میرا بھروسہ تجھ پر ہے
إلھِی کَیْفَ ٲَسْتَعِزُّ وَفِی الذِّلَّۃِ ٲَرْکَزْتَنِی ٲَمْ کَیْفَ لاَ ٲَسْتَعِزُّ وَ إلَیْکَ نَسَبْتَنِی
میرے اللہ کیسے عزت کا دعوی کروں جب کہ اس خواری میں تو نے مجھے یاد کیا یا کیسے عزت کا دعوا کروںمیری نسبت تیری طرف ہے
إلھِی کَیْفَ لاَ ٲَفْتَقِرُ وَٲَنْتَ الَّذِی فِی الْفُقَرائِ ٲَقَمْتَنِی ٲَمْ کَیْفَ ٲَفْتَقِرُ وَٲَنْتَ الَّذِی بِجُودِکَ
میرے اللہ کیونکر فقیر نہ بنوں جب کہ تو نے مجھے فقیروں کی صف میں رکھا ہے یا کسیے میں فقیر بنوں جب کہ تو نے مجھ کو اپنی عطا سے غنی
ٲَغْنَیْتَنِی وَٲَنْتَ الَّذِی لاَ إلہَ غَیْرُکَ تَعَرَّفْتَ لِکُلِّ شَیْئٍ فَما جَھِلَکَ شَیْئٌ، وَٲَنْتَ
کیا ہوا ہے اور تو وہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے ہر چیز کو اپنی پہچان کرائی پس کوئی چیز نہیں جو تجھے پہچانتی نہ ہو اور تو وہ ہے
الَّذِی تَعَرَّفْتَ إلَیَّ فِی کُلِّ شَیْئٍ فَرَٲَیْتُکَ ظاھِراً فِی کُلِّ شَیْئٍ، وَٲَ نْتَ الظَّاھِرُ لِکُلِّ
جس نے ہر چیز کے ذریعے مجھے اپنی معرفت کرائی پس میں نے تجھے ہر چیز میں عیاں و نمایاں دیکھا اور تو ہر چیز پر ظاہر و آشکار
شَیْئٍ یَا مَنِ اسْتَویٰ بِرَحْمانِیَّتِہِ فَصارَ الْعَرْشُ غَیْباً فِی ذاتِہِ مَحَقْتَ الْآثارَ بِالْآثارِ
ہے اے وہ جو اپنی رحمت عامہ کیساتھ قائم ہے کہ عرش اس کی ذات میں نہاں ہو گیا ہے تو نے اپنی نشانیوں سے دیگر نشانیوں کو مٹا دیا
وَمَحَوْتَ الْأَغْیارَ بِمُحِیطاتِ ٲَ فْلاکِ الْاَ نْوارِ، یَا مَنِ احْتَجَبَ فِی سُرادِقاتِ عَرْشِہِ
تو نے اپنے غیروں کو نورانی آسمانوں کے حلقوں میں نابود کردیا اے وہ جو اپنے عرش کی چلمنوں میں پنہاں ہو گیا
عَنْ ٲَنْ تُدْرِکَہُ الْاَ بْصارُ، یَا مَنْ تَجَلَّیٰ بِکَمالِ بَھائِہِ فَتَحَقَّقَتْ عَظَمَتُہُ مِنَ الاسْتِوائَ
دیکھتی آنکھیں اسے دیکھ نہیں پاتیں اے وہ جس نے اپنے نورکامل کا جلوہ دکھایا تو اس کی عظمت قائم و برقرار
کَیْفَ تَخْفیٰ وَٲَ نْتَ الظَّاھِرُ ٲَمْ کَیْفَ تَغِیبُ وَٲَ نْتَ الرَّقِیبُ الْحاضِرُ إنَّکَ عَلَی کُلِّ
ہو گئی کیونکر پوشیدہ ہے تو جب کہ آشکار ہے یا کیسے تو پنہاں ہے جبکہ تو نگہبان اور حاضر ہے بے شک تو ہر چیز پر
شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَہُ ۔
قدرت رکھتا ہے اور اللہ کیلئے حمد ہے جو یکتا ہے ۔
التماس دعا
/169